الأنعام 6:116 وان تطع اكثر من في الارض يضلوك عن سبيل الله ان يتبعون الا الظن وان هم الا يخرصون ١١٦
وَاِنْ
تُطِعْ
اَكْثَرَ
مَنْ
فِی
الْاَرْضِ
یُضِلُّوْكَ
عَنْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ؕ
اِنْ
یَّتَّبِعُوْنَ
اِلَّا
الظَّنَّ
وَاِنْ
هُمْ
اِلَّا
یَخْرُصُوْنَ
۟
اور اے محمد ؐ ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریّت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرا ئیاں کرتے ہیں۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ» [37-الصافات:71] اور جگہ ہے آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ” گو تو حرص کرے لیک
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَ