الأنعام 6:124 واذا جاءتهم اية قالوا لن نومن حتى نوتى مثل ما اوتي رسل الله الله اعلم حيث يجعل رسالته سيصيب الذين اجرموا صغار عند الله وعذاب شديد بما كانوا يمكرون ١٢٤
وَاِذَا
جَآءَتْهُمْ
اٰیَةٌ
قَالُوْا
لَنْ
نُّؤْمِنَ
حَتّٰی
نُؤْتٰی
مِثْلَ
مَاۤ
اُوْتِیَ
رُسُلُ
اللّٰهِ ؔۘؕ
اَللّٰهُ
اَعْلَمُ
حَیْثُ
یَجْعَلُ
رِسَالَتَهٗ ؕ
سَیُصِیْبُ
الَّذِیْنَ
اَجْرَمُوْا
صَغَارٌ
عِنْدَ
اللّٰهِ
وَعَذَابٌ
شَدِیْدٌۢ
بِمَا
كَانُوْا
یَمْكُرُوْنَ
۟
اور جب آتی ہے انکے پاس کوئی آیت تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گےجب تک کہ نہ دیا جاوے ہم کو جیسا کچھ کہ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو اللہ خوب جانتا ہے اس موقع کو کہ جہاں بھیجے اپنے پیغام عنقریب پہنچے گی گنہگاروں کو ذلت اللہ کے ہاں اور عذاب سخت اس وجہ سےکہ وہ مکر کرتے تھے 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بستیوں کے رئیس گمراہ ہو جائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ٭٭…
ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی کفار کو ہوشیار کرتا ہے، فرماتا ہے «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا» [25-
بستیوں کے رئیس گمراہ ہو جائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ٭٭…
ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی ک