الأنعام 6:138 وقالوا هاذه انعام وحرث حجر لا يطعمها الا من نشاء بزعمهم وانعام حرمت ظهورها وانعام لا يذكرون اسم الله عليها افتراء عليه سيجزيهم بما كانوا يفترون ١٣٨
وَقَالُوْا
هٰذِهٖۤ
اَنْعَامٌ
وَّحَرْثٌ
حِجْرٌ ۖۗ
لَّا
یَطْعَمُهَاۤ
اِلَّا
مَنْ
نَّشَآءُ
بِزَعْمِهِمْ
وَاَنْعَامٌ
حُرِّمَتْ
ظُهُوْرُهَا
وَاَنْعَامٌ
لَّا
یَذْكُرُوْنَ
اسْمَ
اللّٰهِ
عَلَیْهَا
افْتِرَآءً
عَلَیْهِ ؕ
سَیَجْزِیْهِمْ
بِمَا
كَانُوْا
یَفْتَرُوْنَ
۟
اور کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیتی ممنوع ہے، انھیں کوئی نہیں کھاسکتاسوا اس کے جس کو ہم چاہیں ، اپنے گمان کے مطابق اور فلاں چوپائے ہیں کہ ان کی پیٹھ حرام کردی گئی ہے اور کچھ چوپائے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے یہ سب انھوں نے اللہ پر افترا کیا ہے اللہ جلد ان کو اس افترا کا بدلہ دے گا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ کا مقرر کردہ راستہ ٭٭…
«الْحِجْرُ» کے معنی احرام کے ہیں -یہ طریقے شیطانی تھے کوئی اللہ کا مقرر کردہ راستہ نہ تھا۔ اپنے معبودوں کے نام یہ چیزیں کر دیتے تھے، پھر جسے چاہتے کھلاتے۔
جیسے فرمان ہے آیت «قُلْ اَرَءَيْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَــعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وّ
اللہ کا مقرر کردہ راستہ ٭٭…
«الْحِجْرُ» کے معنی احرام کے ہیں -یہ طریقے شیطانی تھے کوئی اللہ کا مقرر کردہ راستہ نہ تھا۔ اپنے معبودوں کے نام یہ چیزیں ک