الأنعام 6:145 قل لا اجد في ما اوحي الي محرما على طاعم يطعمه الا ان يكون ميتة او دما مسفوحا او لحم خنزير فانه رجس او فسقا اهل لغير الله به فمن اضطر غير باغ ولا عاد فان ربك غفور رحيم ١٤٥
قُلْ
لَّاۤ
اَجِدُ
فِیْ
مَاۤ
اُوْحِیَ
اِلَیَّ
مُحَرَّمًا
عَلٰی
طَاعِمٍ
یَّطْعَمُهٗۤ
اِلَّاۤ
اَنْ
یَّكُوْنَ
مَیْتَةً
اَوْ
دَمًا
مَّسْفُوْحًا
اَوْ
لَحْمَ
خِنْزِیْرٍ
فَاِنَّهٗ
رِجْسٌ
اَوْ
فِسْقًا
اُهِلَّ
لِغَیْرِ
اللّٰهِ
بِهٖ ۚ
فَمَنِ
اضْطُرَّ
غَیْرَ
بَاغٍ
وَّلَا
عَادٍ
فَاِنَّ
رَبَّكَ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وه مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وه بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کہ غیراللہ کے لئے نامزد کردیا گیا ہو1 ۔ پھر جو شخص مجبور ہوجائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے واﻻ ہو تو واقعی آپ کا رب غفور و رحیم ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال و حرام ٭٭…
اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے بندے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں سے جو اللہ کے حلال کو اپنی طرف سے حرام کرتے ہیں فرمادیں کہ جو وحی الٰہی میرے پاس آئی ہے اس میں تو حرام صرف ان چیزوں کو کیا گیا ہے، جو میں تمہیں س
اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حلال و حرام ٭٭…
اللہ تعالیٰ عزوجل اپنے بندے اور نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا