الأنعام 6:150 قل هلم شهداءكم الذين يشهدون ان الله حرم هاذا فان شهدوا فلا تشهد معهم ولا تتبع اهواء الذين كذبوا باياتنا والذين لا يومنون بالاخرة وهم بربهم يعدلون ١٥٠
قُلْ
هَلُمَّ
شُهَدَآءَكُمُ
الَّذِیْنَ
یَشْهَدُوْنَ
اَنَّ
اللّٰهَ
حَرَّمَ
هٰذَا ۚ
فَاِنْ
شَهِدُوْا
فَلَا
تَشْهَدْ
مَعَهُمْ ۚ
وَلَا
تَتَّبِعْ
اَهْوَآءَ
الَّذِیْنَ
كَذَّبُوْا
بِاٰیٰتِنَا
وَالَّذِیْنَ
لَا
یُؤْمِنُوْنَ
بِالْاٰخِرَةِ
وَهُمْ
بِرَبِّهِمْ
یَعْدِلُوْنَ
۟۠
تو کہہ کہ لاؤ اپنے گواہ جو گواہی دیں اس بات کی اللہ نے حرام کیا ہے ان چیزوں کو پھر اگر وہ ایسی گواہی دیں بھی تو تو نہ اعتبار کر ان کا اور نہ چل ان کی خوشی پر جنہوں نے جھٹلایا ہمارے حکموں کو اور جو یقین نہینں کرتے آخرت کا اور وہ اپنے رب کے برابر کرتے ہیں اوروں کو 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غلط سوچ سے باز رہو ٭٭…
مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے۔
صفحہ نمبر2793
پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں
غلط سوچ سے باز رہو ٭٭…
مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو ا