الأنعام 6:151 ۞ قل تعالوا اتل ما حرم ربكم عليكم الا تشركوا به شييا وبالوالدين احسانا ولا تقتلوا اولادكم من املاق نحن نرزقكم واياهم ولا تقربوا الفواحش ما ظهر منها وما بطن ولا تقتلوا النفس التي حرم الله الا بالحق ذالكم وصاكم به لعلكم تعقلون ١٥١
قُلْ
تَعَالَوْا
اَتْلُ
مَا
حَرَّمَ
رَبُّكُمْ
عَلَیْكُمْ
اَلَّا
تُشْرِكُوْا
بِهٖ
شَیْـًٔا
وَّبِالْوَالِدَیْنِ
اِحْسَانًا ۚ
وَلَا
تَقْتُلُوْۤا
اَوْلَادَكُمْ
مِّنْ
اِمْلَاقٍ ؕ
نَحْنُ
نَرْزُقُكُمْ
وَاِیَّاهُمْ ۚ
وَلَا
تَقْرَبُوا
الْفَوَاحِشَ
مَا
ظَهَرَ
مِنْهَا
وَمَا
بَطَنَ ۚ
وَلَا
تَقْتُلُوا
النَّفْسَ
الَّتِیْ
حَرَّمَ
اللّٰهُ
اِلَّا
بِالْحَقِّ ؕ
ذٰلِكُمْ
وَصّٰىكُمْ
بِهٖ
لَعَلَّكُمْ
تَعْقِلُوْنَ
۟
اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا پابندیاں عائد کی ہیں : یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے اور بےشرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ ۔ خواہ وہ کھلی ‘ یا چھپی ہوں۔ اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ یہ باتیں ہیں جس کی ہدایت تمہیں اس نے کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو ۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیتیں ٭٭…
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کو دیکھنا چاہتا ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت تھی تو وہ ان آیتوں کو «ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ» [الأنعام:151تا153] تک پڑھے۔ [س
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیتیں ٭٭…
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت کو دیکھنا چاہتا ہو