الأنعام 6:35 وان كان كبر عليك اعراضهم فان استطعت ان تبتغي نفقا في الارض او سلما في السماء فتاتيهم باية ولو شاء الله لجمعهم على الهدى فلا تكونن من الجاهلين ٣٥
وَاِنْ
كَانَ
كَبُرَ
عَلَیْكَ
اِعْرَاضُهُمْ
فَاِنِ
اسْتَطَعْتَ
اَنْ
تَبْتَغِیَ
نَفَقًا
فِی
الْاَرْضِ
اَوْ
سُلَّمًا
فِی
السَّمَآءِ
فَتَاْتِیَهُمْ
بِاٰیَةٍ ؕ
وَلَوْ
شَآءَ
اللّٰهُ
لَجَمَعَهُمْ
عَلَی
الْهُدٰی
فَلَا
تَكُوْنَنَّ
مِنَ
الْجٰهِلِیْنَ
۟
اور اگر ان کا اعراض آپ ﷺ پر بہت شاق گزر رہا ہے تو اگر آپ میں طاقت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ لگا لیں یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگا لیں تو لے آئیں کوئی نشانی اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا تو آپ ﷺ جذبات سے مغلوب ہونے والوں میں سے نہ بنیں !
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کو جھٹلانے نہ ماننے اور ایذائیں پہنچانے سے تنگ دل نہ ہوں “۔ فرماتا ہے کہ ” ہمیں ان کی حرکت خوب معلوم ہے، آپ صلی اللہ
حق کے دشمن کو اس کے حال پر چھوڑئیے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ ” آ