الأنعام 6:38 وما من دابة في الارض ولا طاير يطير بجناحيه الا امم امثالكم ما فرطنا في الكتاب من شيء ثم الى ربهم يحشرون ٣٨
وَمَا
مِنْ
دَآبَّةٍ
فِی
الْاَرْضِ
وَلَا
طٰٓىِٕرٍ
یَّطِیْرُ
بِجَنَاحَیْهِ
اِلَّاۤ
اُمَمٌ
اَمْثَالُكُمْ ؕ
مَا
فَرَّطْنَا
فِی
الْكِتٰبِ
مِنْ
شَیْءٍ
ثُمَّ
اِلٰی
رَبِّهِمْ
یُحْشَرُوْنَ
۟
اور نہیں ہے کوئی چلنے والا زمین میں اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے دو بازوؤں سے مگر ہر ایک امت ہے تمہاری طرح ہم نےنہیں چھوڑی لکھنے میں کوئی چیز پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭…
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا» [17-الإسراء:90] جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ مثلاً عرب کی کل زمین میں چشموں اور آبشاروں کا جاری ہو جانا وغیرہ۔ فرماتا ہے کہ ” قدرت
معجزات کے عدم اظہار کی حکمت ٭٭…
کافر لوگ بطور اعتراض کہا کرتے تھے کہ «وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا»