الأنعام 6:54 واذا جاءك الذين يومنون باياتنا فقل سلام عليكم كتب ربكم على نفسه الرحمة انه من عمل منكم سوءا بجهالة ثم تاب من بعده واصلح فانه غفور رحيم ٥٤
وَاِذَا
جَآءَكَ
الَّذِیْنَ
یُؤْمِنُوْنَ
بِاٰیٰتِنَا
فَقُلْ
سَلٰمٌ
عَلَیْكُمْ
كَتَبَ
رَبُّكُمْ
عَلٰی
نَفْسِهِ
الرَّحْمَةَ ۙ
اَنَّهٗ
مَنْ
عَمِلَ
مِنْكُمْ
سُوْٓءًا
بِجَهَالَةٍ
ثُمَّ
تَابَ
مِنْ
بَعْدِهٖ
وَاَصْلَحَ
فَاَنَّهٗ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
جب آپ ﷺ کے پاس آئیں وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ ان سے کہیں کہ تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے (اور تمہارے لیے اللہ کی خاص رحمت کا مظہر یہ ہے) کہ تم میں سے جو کوئی کسی برے کام کا ارتکاب کربیٹھے گا جہالت کی بنا پر پھر وہ اس کے بعد توبہ کرے گا اور اصلاح کرلے گا تو یقیناً اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بے مایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں میں سے تو اس وقت یونہی کوئی اکا دکا آ گیا تھا۔ یہی لوگ دراصل انبیاء علیہم السلام کے مطیع اور فرمانبردار ہوتے رہے۔
قوم نوح نے کہا تھا «وَمَا نَرٰىكَ
باب…
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے تسلیم کرنے والے یہی بیچارے بے مایہ غریب غرباء لوگ تھے مرد عورت لونڈی غلام وغیرہ، بڑے بڑے اور ذی وقعت لوگوں