الأنعام 6:63 قل من ينجيكم من ظلمات البر والبحر تدعونه تضرعا وخفية لين انجانا من هاذه لنكونن من الشاكرين ٦٣
قُلْ
مَنْ
یُّنَجِّیْكُمْ
مِّنْ
ظُلُمٰتِ
الْبَرِّ
وَالْبَحْرِ
تَدْعُوْنَهٗ
تَضَرُّعًا
وَّخُفْیَةً ۚ
لَىِٕنْ
اَنْجٰىنَا
مِنْ
هٰذِهٖ
لَنَكُوْنَنَّ
مِنَ
الشّٰكِرِیْنَ
۟
آپ کہئے کہ وه کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ﻇلمات سے نجات دیتا ہے۔ تم اس کو پکارتے ہو گڑگڑا کر چپکے چپکے، کہ اگر تو ہم کو ان سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احسان فراموش نہ بنو ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ ” جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہو جاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر
احسان فراموش نہ بنو ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ ” جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خ