الأنبياء 21:30 اولم ير الذين كفروا ان السماوات والارض كانتا رتقا ففتقناهما وجعلنا من الماء كل شيء حي افلا يومنون ٣٠
اَوَلَمْ
یَرَ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْۤا
اَنَّ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضَ
كَانَتَا
رَتْقًا
فَفَتَقْنٰهُمَا ؕ
وَجَعَلْنَا
مِنَ
الْمَآءِ
كُلَّ
شَیْءٍ
حَیٍّ ؕ
اَفَلَا
یُؤْمِنُوْنَ
۟
کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا1 کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا2 اور ہر زنده چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا3، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں ﻻتے.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
زبردست غالب ٭٭…
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ” جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں، کیا انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ تمام مخلوق کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور سب چیز کا نگہبان بھی وہی ہے، پھر اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت تم ک
زبردست غالب ٭٭…
اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ اس کی قدرت پوری ہے اور اس کا غلبہ زبردست ہے۔ فرماتا ہے کہ” جو کافر اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ