الأنبياء 21:41 ولقد استهزي برسل من قبلك فحاق بالذين سخروا منهم ما كانوا به يستهزيون ٤١
وَلَقَدِ
اسْتُهْزِئَ
بِرُسُلٍ
مِّنْ
قَبْلِكَ
فَحَاقَ
بِالَّذِیْنَ
سَخِرُوْا
مِنْهُمْ
مَّا
كَانُوْا
بِهٖ
یَسْتَهْزِءُوْنَ
۟۠
اور (اے نبی ﷺ !) آپ سے پہلے جو رسول آئے تھے ان کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا تو پھر گھیر لیا ان میں سے مذاق اڑانے والوں کو اسی (عذاب) نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے، اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں ا