الأنبياء 21:42 قل من يكلوكم بالليل والنهار من الرحمان بل هم عن ذكر ربهم معرضون ٤٢
قُلْ
مَنْ
یَّكْلَؤُكُمْ
بِالَّیْلِ
وَالنَّهَارِ
مِنَ
الرَّحْمٰنِ ؕ
بَلْ
هُمْ
عَنْ
ذِكْرِ
رَبِّهِمْ
مُّعْرِضُوْنَ
۟
تو کہہ کون نگہبانی کرتا ہے تمہاری رات میں اور دن میں رحمٰن سے 1 کوئی نہیں وہ اپنے رب کے ذکر سے منہ پھیرتے ہیں 2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں اڑایا جاتا ہے اور جھوٹا کہا جاتا ہے، اس پر پریشان نہ ہونا، کافروں کی یہ پرانی عادت ہے۔ اگلے نبیوں کے ساتھ بھی انہوں نے یہی کیا جس کی وجہ سے آخرش عذابوں
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” تمہیں جو ستایا جا رہا ہے، مذاق میں ا