الأنبياء 21:5 بل قالوا اضغاث احلام بل افتراه بل هو شاعر فلياتنا باية كما ارسل الاولون ٥
بَلْ
قَالُوْۤا
اَضْغَاثُ
اَحْلَامٍ
بَلِ
افْتَرٰىهُ
بَلْ
هُوَ
شَاعِرٌ ۖۚ
فَلْیَاْتِنَا
بِاٰیَةٍ
كَمَاۤ
اُرْسِلَ
الْاَوَّلُوْنَ
۟
بلکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ (کلام) پریشان خیالات ہیں بلکہ اس نے خود گھڑ لیا ہے بلکہ یہ تو شاعر ہے تو اسے چاہیے کہ وہ لائے ہمارے پاس کوئی معجزہ جیسے (معجزات کے ساتھ) پہلے رسولوں کو بھیجا گیا تھا
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
باب…
ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئی بات پوشیدہ نہیں، اس نے اس پاک کلام قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اس میں اگلی پچھلی تمام خبروں کا موجود ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ اس کا اتارنے والا عا
باب…
ان بدکرداروں کے جواب میں جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ” یہ جو بہتان باندھتے ہیں ان سے کہئے کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تمام باتیں جانتا ہے جس پر کوئ