الأنبياء 21:58 فجعلهم جذاذا الا كبيرا لهم لعلهم اليه يرجعون ٥٨
فَجَعَلَهُمْ
جُذٰذًا
اِلَّا
كَبِیْرًا
لَّهُمْ
لَعَلَّهُمْ
اِلَیْهِ
یَرْجِعُوْنَ
۟
پس اس نے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا یہ بھی اس لئے کہ وه سب اس کی طرف ہی لوٹیں.1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭…
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔
ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ
کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭…
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ