الأنبياء 21:87 وذا النون اذ ذهب مغاضبا فظن ان لن نقدر عليه فنادى في الظلمات ان لا الاه الا انت سبحانك اني كنت من الظالمين ٨٧
وَذَا
النُّوْنِ
اِذْ
ذَّهَبَ
مُغَاضِبًا
فَظَنَّ
اَنْ
لَّنْ
نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ
فَنَادٰی
فِی
الظُّلُمٰتِ
اَنْ
لَّاۤ
اِلٰهَ
اِلَّاۤ
اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ ۖۗ
اِنِّیْ
كُنْتُ
مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ
۟ۚۖ
مچھلی والے1 (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وه غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالﺂخر وه اندھیروں2 کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، بیشک میں ﻇالموں میں ہو گیا.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
یونس علیہ السلام اور ان کی امت ٭٭…
یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورۃ الصافات میں بھی ہے اور سورۃ نون میں بھی ہے۔ [37-الصافات:139-148] [68-القلم:48-50] یہ پیغمبر یونس بن متی علیہ السلام تھے۔ انہیں موصل کے علاقے کی بستی نینوا کی طرف نبی بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ ک
یونس علیہ السلام اور ان کی امت ٭٭…
یہ واقعہ یہاں بھی مذکور ہے اور سورۃ الصافات میں بھی ہے اور سورۃ نون میں بھی ہے۔ [37-الصافات:139-148] [68-القلم: