الأنفال 8:16 ومن يولهم يوميذ دبره الا متحرفا لقتال او متحيزا الى فية فقد باء بغضب من الله وماواه جهنم وبيس المصير ١٦
وَمَنْ
یُّوَلِّهِمْ
یَوْمَىِٕذٍ
دُبُرَهٗۤ
اِلَّا
مُتَحَرِّفًا
لِّقِتَالٍ
اَوْ
مُتَحَیِّزًا
اِلٰی
فِئَةٍ
فَقَدْ
بَآءَ
بِغَضَبٍ
مِّنَ
اللّٰهِ
وَمَاْوٰىهُ
جَهَنَّمُ ؕ
وَبِئْسَ
الْمَصِیْرُ
۟
اور جو شخص ان سے اس موقع پر پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لیے پینترا بدلتا ہو یا جو (اپنی) جماعت کی طرف پناه لینے آتا ہو وه مستثنیٰ ہے1 ۔ باقی اور جو ایسا کرے گا وه اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا وه بہت ہی بری جگہ ہے۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شہیدان وفا کے قصے ٭٭…
جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیرنا حرام ہے ہاں اس شخص کے لیے جو فن جنگ کے طور پر پینترا بدلے یا دشمن کو اپنے پیچھے لگا کر موقعہ پر وار کرنے کے لیے بھاگے یا ا
شہیدان وفا کے قصے ٭٭…
جہاد کے میدان میں جو مسلمان بھی بھاگ کھڑا ہوا اس کی سزا اللہ کے ہاں جہنم کی آگ ہے۔ جب لشکر کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے اس وقت پیٹھ پھیڑ