الأنفال 8:2 انما المومنون الذين اذا ذكر الله وجلت قلوبهم واذا تليت عليهم اياته زادتهم ايمانا وعلى ربهم يتوكلون ٢
اِنَّمَا
الْمُؤْمِنُوْنَ
الَّذِیْنَ
اِذَا
ذُكِرَ
اللّٰهُ
وَجِلَتْ
قُلُوْبُهُمْ
وَاِذَا
تُلِیَتْ
عَلَیْهِمْ
اٰیٰتُهٗ
زَادَتْهُمْ
اِیْمَانًا
وَّعَلٰی
رَبِّهِمْ
یَتَوَكَّلُوْنَ
۟ۚۖ
سچے اہلِ ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کرلرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے1، اور وہ اپنے ربّ پر اعتماد رکھتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وقت پر۔ نہ ان کے دلوں میں ایمان کا نور ہوتا ہے نہ اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ نہ تنہائی میں نمازی رہتے ہیں نہ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتے ہیں، ایسے لوگ ایمان سے
ایمان سے خالی لوگ اور حقیقت ایمان ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں منافقوں کے دل میں نہ فریضے کی ادائیگی کے وقت ذکر اللہ ہوتا ہے نہ کسی اور وق