الأنفال 8:25 واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة واعلموا ان الله شديد العقاب ٢٥
وَاتَّقُوْا
فِتْنَةً
لَّا
تُصِیْبَنَّ
الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا
مِنْكُمْ
خَآصَّةً ۚ
وَاعْلَمُوْۤا
اَنَّ
اللّٰهَ
شَدِیْدُ
الْعِقَابِ
۟
اور بچتے رہو اس فساد سے کہ نہیں پڑے گا تم میں سے خاص ظالموں ہی پر اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان اور اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو گنہگاروں بدکاروں پر ہی نہیں رہے گا بلکہ اس بلاء کی وبا عام ہو گی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے کہا کہ اے ابوعبداللہ تمہیں کون سی چیز لائی ہے؟ تم نے مقتول خلیفہ کو د
برائیوں سے نہ روکنا عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭…
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے کہ اس امتحان اور اس محنت اور فتنے کا خوف رکھو جو گنہگاروں بدکاروں پر ہ