الأنفال 8:42 اذ انتم بالعدوة الدنيا وهم بالعدوة القصوى والركب اسفل منكم ولو تواعدتم لاختلفتم في الميعاد ولاكن ليقضي الله امرا كان مفعولا ليهلك من هلك عن بينة ويحيى من حي عن بينة وان الله لسميع عليم ٤٢
اِذْ
اَنْتُمْ
بِالْعُدْوَةِ
الدُّنْیَا
وَهُمْ
بِالْعُدْوَةِ
الْقُصْوٰی
وَالرَّكْبُ
اَسْفَلَ
مِنْكُمْ ؕ
وَلَوْ
تَوَاعَدْتُّمْ
لَاخْتَلَفْتُمْ
فِی
الْمِیْعٰدِ ۙ
وَلٰكِنْ
لِّیَقْضِیَ
اللّٰهُ
اَمْرًا
كَانَ
مَفْعُوْلًا ۙ۬
لِّیَهْلِكَ
مَنْ
هَلَكَ
عَنْ
بَیِّنَةٍ
وَّیَحْیٰی
مَنْ
حَیَّ
عَنْ
بَیِّنَةٍ ؕ
وَاِنَّ
اللّٰهَ
لَسَمِیْعٌ
عَلِیْمٌ
۟ۙ
جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے1 اور قافلہ تم سے نیچے تھا2۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے3۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے4۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالی نے غزوہ بدر کے ذریعے ایمان کو کفر سے ممتاز کر دیا ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” اس دن تم وادی الدینا میں تھے جو مدینے شریف سے قریب ہے اور مشرک لوگ مکے کی جانب مدینے کی دور کی وادی میں تھے اور ابوسفیان اور اس کا قافلہ تجارتی اسباب سمیت نیچے کی جانب دریا کی طرف تھا اگر تم کفار قریش سے جنگ کا ارادہ پہلے
اللہ تعالی نے غزوہ بدر کے ذریعے ایمان کو کفر سے ممتاز کر دیا ٭٭…
فرماتا ہے کہ ” اس دن تم وادی الدینا میں تھے جو مدینے شریف سے قریب ہے اور مشرک لوگ مکے ک