الأنفال 8:48 واذ زين لهم الشيطان اعمالهم وقال لا غالب لكم اليوم من الناس واني جار لكم فلما تراءت الفيتان نكص على عقبيه وقال اني بريء منكم اني ارى ما لا ترون اني اخاف الله والله شديد العقاب ٤٨
وَاِذْ
زَیَّنَ
لَهُمُ
الشَّیْطٰنُ
اَعْمَالَهُمْ
وَقَالَ
لَا
غَالِبَ
لَكُمُ
الْیَوْمَ
مِنَ
النَّاسِ
وَاِنِّیْ
جَارٌ
لَّكُمْ ۚ
فَلَمَّا
تَرَآءَتِ
الْفِئَتٰنِ
نَكَصَ
عَلٰی
عَقِبَیْهِ
وَقَالَ
اِنِّیْ
بَرِیْٓءٌ
مِّنْكُمْ
اِنِّیْۤ
اَرٰی
مَا
لَا
تَرَوْنَ
اِنِّیْۤ
اَخَافُ
اللّٰهَ ؕ
وَاللّٰهُ
شَدِیْدُ
الْعِقَابِ
۟۠
اور جب شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال کو مزین کردیا تھا اور اس نے (ان سے) کہا تھا کہ آج تم پر انسانوں میں سے کوئی غالب نہیں آسکتا اور میں بھی تمہارے ساتھ ہی ہوں پھر جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو وہ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے پھر گیا اور کہنے لگا کہ میں تم سے لا تعلق ہوں میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو مجھے اللہ کا خوف ہے۔ اور اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا ٭٭…
جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ ” جیسے وہ حق کو مٹانے اور لوگوں میں اپنی بہادری دھانے کے لیے فخر و غرور کے ساتھ اپنے شہروں سے چلے تم ایسا نہ کرنا۔ “
چنانچہ ابوجہل سے جب کہا گیا کہ قافلہ تو بچ
میدان بدر میں ابلیس مشرکین کا ہمراہی تھا ٭٭…
جہاد میں ثابت قدمی نیک نیتی ذکر اللہ کی کثرت کی نصیحت فرما کر مشرکین کی مشابہت سے روک رہا ہے کہ ” جیسے وہ ح