الأنفال 8:67 ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض تريدون عرض الدنيا والله يريد الاخرة والله عزيز حكيم ٦٧
مَا
كَانَ
لِنَبِیٍّ
اَنْ
یَّكُوْنَ
لَهٗۤ
اَسْرٰی
حَتّٰی
یُثْخِنَ
فِی
الْاَرْضِ ؕ
تُرِیْدُوْنَ
عَرَضَ
الدُّنْیَا ۖۗ
وَاللّٰهُ
یُرِیْدُ
الْاٰخِرَةَ ؕ
وَاللّٰهُ
عَزِیْزٌ
حَكِیْمٌ
۟
نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے1 اور اللہ زور آور باحکمت ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اسیران بدر اور مشورہ ٭٭…
مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ”ان کی گردنیں اڑا دی جائ
اسیران بدر اور مشورہ ٭٭…
مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشو