الأنفال 8:7 واذ يعدكم الله احدى الطايفتين انها لكم وتودون ان غير ذات الشوكة تكون لكم ويريد الله ان يحق الحق بكلماته ويقطع دابر الكافرين ٧
وَاِذْ
یَعِدُكُمُ
اللّٰهُ
اِحْدَی
الطَّآىِٕفَتَیْنِ
اَنَّهَا
لَكُمْ
وَتَوَدُّوْنَ
اَنَّ
غَیْرَ
ذَاتِ
الشَّوْكَةِ
تَكُوْنُ
لَكُمْ
وَیُرِیْدُ
اللّٰهُ
اَنْ
یُّحِقَّ
الْحَقَّ
بِكَلِمٰتِهٖ
وَیَقْطَعَ
دَابِرَ
الْكٰفِرِیْنَ
۟ۙ
اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعده کرتا تھا کہ وه تمہارے ہاتھ آجائے گی1 اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آجائے2 اور اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ﺛابت کردے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭…
مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذکر میں تشبیہہ دی گئی ہے، مومنین کے باہمی صلح ساتھ ان کے ارتقاب اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔
ایک مطلب تو اس کا یہ ہے کہ جیسے تم نے
شمع رسالت کے جاں نثاروں کی دعائیں ٭٭…
مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ «كَمَا أَخْرَجَكَ» میں «كَمَا» کے آنے کا کیا سبب ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت زیر ذ