العنكبوت 29:31 ولما جاءت رسلنا ابراهيم بالبشرى قالوا انا مهلكو اهل هاذه القرية ان اهلها كانوا ظالمين ٣١
وَلَمَّا
جَآءَتْ
رُسُلُنَاۤ
اِبْرٰهِیْمَ
بِالْبُشْرٰی ۙ
قَالُوْۤا
اِنَّا
مُهْلِكُوْۤا
اَهْلِ
هٰذِهِ
الْقَرْیَةِ ۚ
اِنَّ
اَهْلَهَا
كَانُوْا
ظٰلِمِیْنَ
۟ۚۖ
اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کےپاس خوشخبری لے کر بولے ہم کو غارت کرنا ہے اس بستی والوں کو بیشک اس کے لوگ ہور رہے ہیں گنہگار 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
فرشتوں کی آمد ٭٭…
لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہیں اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفز
فرشتوں کی آمد ٭٭…
لوط علیہ السلام کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پ