العنكبوت 29:64 وما هاذه الحياة الدنيا الا لهو ولعب وان الدار الاخرة لهي الحيوان لو كانوا يعلمون ٦٤
وَمَا
هٰذِهِ
الْحَیٰوةُ
الدُّنْیَاۤ
اِلَّا
لَهْوٌ
وَّلَعِبٌ ؕ
وَاِنَّ
الدَّارَ
الْاٰخِرَةَ
لَهِیَ
الْحَیَوَانُ ۘ
لَوْ
كَانُوْا
یَعْلَمُوْنَ
۟
اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔1 اصل زندگی کا گھر تو دارِ آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے ٭٭…
دنیا کی حقارت و ذلت، اس کے زوال و فنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں، اس کا کوئی ثبات نہیں۔ یہ تو صرف لہو و لعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام و بقا کی زندگی ہے۔ وہ زوال و فنا سے، قلت و ذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجی
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے ٭٭…
دنیا کی حقارت و ذلت، اس کے زوال و فنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں، اس کا کوئی ثبات نہیں۔ یہ تو صرف لہو و لعب ہ