الأعراف 7:100 اولم يهد للذين يرثون الارض من بعد اهلها ان لو نشاء اصبناهم بذنوبهم ونطبع على قلوبهم فهم لا يسمعون ١٠٠
اَوَلَمْ
یَهْدِ
لِلَّذِیْنَ
یَرِثُوْنَ
الْاَرْضَ
مِنْ
بَعْدِ
اَهْلِهَاۤ
اَنْ
لَّوْ
نَشَآءُ
اَصَبْنٰهُمْ
بِذُنُوْبِهِمْ ۚ
وَنَطْبَعُ
عَلٰی
قُلُوْبِهِمْ
فَهُمْ
لَا
یَسْمَعُوْنَ
۟
تو کیا ان لوگوں کو سبق نہیں ملا جو زمین کے وارث ہوئے ہیں اس کے پہلے رہنے والوں کے (ہلاک ہونے کے) بعد کہ ہم چاہیں تو ان کو بھی پکڑ لیں ان کے گناہوں کی پاداش میں ! اور ہم ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں پھر وہ کچھ سنتے ہی نہیں
تفسیر پڑھیں
Tafsir Ibn Kathir
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭…
ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْ
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭…
ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ ب