الأعراف 7:105 حقيق على ان لا اقول على الله الا الحق قد جيتكم ببينة من ربكم فارسل معي بني اسراييل ١٠٥
حَقِیْقٌ
عَلٰۤی
اَنْ
لَّاۤ
اَقُوْلَ
عَلَی
اللّٰهِ
اِلَّا
الْحَقَّ ؕ
قَدْ
جِئْتُكُمْ
بِبَیِّنَةٍ
مِّنْ
رَّبِّكُمْ
فَاَرْسِلْ
مَعِیَ
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
۟ؕ
میرے لیے یہی شایان ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں، میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی ﻻیا ہوں1 ، سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» او
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے