الأعراف 7:116 قال القوا فلما القوا سحروا اعين الناس واسترهبوهم وجاءوا بسحر عظيم ١١٦
قَالَ
اَلْقُوْا ۚ
فَلَمَّاۤ
اَلْقَوْا
سَحَرُوْۤا
اَعْیُنَ
النَّاسِ
وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ
وَجَآءُوْ
بِسِحْرٍ
عَظِیْمٍ
۟
(موسیٰ علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی ڈالو1 ، پس جب انہوں نے ڈاﻻ تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھلایا۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جادوگروں سے مقابلہ ٭٭…
جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے۔ اس لیے انہوں نے آتے ہی موسیٰ علیہ السلام کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہو جاؤ۔ تمہیں اختیار ہے کہ میدان میں اپنے کرتب پہلے دکھاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کر دیں۔
آپ نے فرمایا: بہتر ہے کہ تمہارے حوص
جادوگروں سے مقابلہ ٭٭…
جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے۔ اس لیے انہوں نے آتے ہی موسیٰ علیہ السلام