الأعراف 7:12 قال ما منعك الا تسجد اذ امرتك قال انا خير منه خلقتني من نار وخلقته من طين ١٢
قَالَ
مَا
مَنَعَكَ
اَلَّا
تَسْجُدَ
اِذْ
اَمَرْتُكَ ؕ
قَالَ
اَنَا
خَیْرٌ
مِّنْهُ ۚ
خَلَقْتَنِیْ
مِنْ
نَّارٍ
وَّخَلَقْتَهٗ
مِنْ
طِیْنٍ
۟
حق تعالیٰ نے فرمایا تو جو سجده نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کون امر مانع ہے1 ، جبکہ میں تجھ کو حکم دے چکا، کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا ہے۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
عذر گناہ بدتر از گناہ ٭٭…
«أَلَّا تَسْجُدَ» «لَا» بقول بعض نحویوں کے زائد ہے اور بعض کے نزدیک انکار کی تاکید کے لئے ہے۔ جیسے کہ شاعر کے قول «مَا اِنْ رَاَیْتُ وَلَا سَمِعْتُ بِمِثْلِہِ» میں «ما» نافیہ پر «اِن» نفی کے لیے صرف تاکیداً داخل ہوا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی ہے کہ پہلے «لَمْ يَكُنْ مِن
عذر گناہ بدتر از گناہ ٭٭…
«أَلَّا تَسْجُدَ» «لَا» بقول بعض نحویوں کے زائد ہے اور بعض کے نزدیک انکار کی تاکید کے لئے ہے۔ جیسے کہ شاعر کے قول «مَا ا