الأعراف 7:127 وقال الملا من قوم فرعون اتذر موسى وقومه ليفسدوا في الارض ويذرك والهتك قال سنقتل ابناءهم ونستحيي نساءهم وانا فوقهم قاهرون ١٢٧
وَقَالَ
الْمَلَاُ
مِنْ
قَوْمِ
فِرْعَوْنَ
اَتَذَرُ
مُوْسٰی
وَقَوْمَهٗ
لِیُفْسِدُوْا
فِی
الْاَرْضِ
وَیَذَرَكَ
وَاٰلِهَتَكَ ؕ
قَالَ
سَنُقَتِّلُ
اَبْنَآءَهُمْ
وَنَسْتَحْیٖ
نِسَآءَهُمْ ۚ
وَاِنَّا
فَوْقَهُمْ
قٰهِرُوْنَ
۟
اور بولے سردار قوم فرعون کےکیوں چھوڑتا ہے تو موسٰی کو اور اسکی قوم کو کہ اودھم مچائیں ملک میں 1 اور موقوف کر دے تجھ کو اور تیرے بتوں کو 2 بولا اب ہم مار ڈالیں گے انکے بیٹوں کو اور زندہ رکھیں گے انکی عورتوں کو اور ہم ان پر زور آور ہیں 3
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی ان
آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭…
فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان