الأعراف 7:131 فاذا جاءتهم الحسنة قالوا لنا هاذه وان تصبهم سيية يطيروا بموسى ومن معه الا انما طايرهم عند الله ولاكن اكثرهم لا يعلمون ١٣١
فَاِذَا
جَآءَتْهُمُ
الْحَسَنَةُ
قَالُوْا
لَنَا
هٰذِهٖ ۚ
وَاِنْ
تُصِبْهُمْ
سَیِّئَةٌ
یَّطَّیَّرُوْا
بِمُوْسٰی
وَمَنْ
مَّعَهٗ ؕ
اَلَاۤ
اِنَّمَا
طٰٓىِٕرُهُمْ
عِنْدَ
اللّٰهِ
وَلٰكِنَّ
اَكْثَرَهُمْ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
۟
سو جب ان پر خوشحالی آجاتی تو کہتے کہ یہ تو ہمارے لیے ہونا ہی چاہئے اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے1 ۔ یاد رکھو کہ ان کی نحوست اللہ تعالیٰ کے پاس ہے2، لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اعمال کا خمیازہ ٭٭…
اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی
اعمال کا خمیازہ ٭٭…
اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درخت