الأعراف 7:142 ۞ وواعدنا موسى ثلاثين ليلة واتممناها بعشر فتم ميقات ربه اربعين ليلة وقال موسى لاخيه هارون اخلفني في قومي واصلح ولا تتبع سبيل المفسدين ١٤٢
وَوٰعَدْنَا
مُوْسٰی
ثَلٰثِیْنَ
لَیْلَةً
وَّاَتْمَمْنٰهَا
بِعَشْرٍ
فَتَمَّ
مِیْقَاتُ
رَبِّهٖۤ
اَرْبَعِیْنَ
لَیْلَةً ۚ
وَقَالَ
مُوْسٰی
لِاَخِیْهِ
هٰرُوْنَ
اخْلُفْنِیْ
فِیْ
قَوْمِیْ
وَاَصْلِحْ
وَلَا
تَتَّبِعْ
سَبِیْلَ
الْمُفْسِدِیْنَ
۟
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعده کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہوگیا1 ۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بدنظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
احسانات پہ احسانات ٭٭…
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا وہ احسان یاد دلاتا ہے جس کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کو شرف ہم کلامی حاصل ہوا اور تورات ملی جو ان سب کے لیے باعث ہدایت و نور تھی جس میں ان کی شریعت کی تفصیل تھی اور اللہ کے تمام احکام موجود تھے۔
تیس راتوں کا وعدہ ہوا، آپ نے یہ دن روزوں سے گذارے۔
احسانات پہ احسانات ٭٭…
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا وہ احسان یاد دلاتا ہے جس کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کو شرف ہم کلامی حاصل ہوا اور تورات ملی جو ان