الأعراف 7:148 واتخذ قوم موسى من بعده من حليهم عجلا جسدا له خوار الم يروا انه لا يكلمهم ولا يهديهم سبيلا اتخذوه وكانوا ظالمين ١٤٨
وَاتَّخَذَ
قَوْمُ
مُوْسٰی
مِنْ
بَعْدِهٖ
مِنْ
حُلِیِّهِمْ
عِجْلًا
جَسَدًا
لَّهٗ
خُوَارٌ ؕ
اَلَمْ
یَرَوْا
اَنَّهٗ
لَا
یُكَلِّمُهُمْ
وَلَا
یَهْدِیْهِمْ
سَبِیْلًا ۘ
اِتَّخَذُوْهُ
وَكَانُوْا
ظٰلِمِیْنَ
۟
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی۔ اللہ کی قدرت سے وہ سونا
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سام