الأعراف 7:149 ولما سقط في ايديهم وراوا انهم قد ضلوا قالوا لين لم يرحمنا ربنا ويغفر لنا لنكونن من الخاسرين ١٤٩
وَلَمَّا
سُقِطَ
فِیْۤ
اَیْدِیْهِمْ
وَرَاَوْا
اَنَّهُمْ
قَدْ
ضَلُّوْا ۙ
قَالُوْا
لَىِٕنْ
لَّمْ
یَرْحَمْنَا
رَبُّنَا
وَیَغْفِرْ
لَنَا
لَنَكُوْنَنَّ
مِنَ
الْخٰسِرِیْنَ
۟
اور جب ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے (ان کو پچھتاوا ہوا) اور انہیں احساس ہوا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمیں بخش نہ دیا تو ہم ہوجائیں گے بہت خسارہ پانے والوں میں سے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی۔ اللہ کی قدرت سے وہ سونا
بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سام