الأعراف 7:150 ولما رجع موسى الى قومه غضبان اسفا قال بيسما خلفتموني من بعدي اعجلتم امر ربكم والقى الالواح واخذ براس اخيه يجره اليه قال ابن ام ان القوم استضعفوني وكادوا يقتلونني فلا تشمت بي الاعداء ولا تجعلني مع القوم الظالمين ١٥٠
وَلَمَّا
رَجَعَ
مُوْسٰۤی
اِلٰی
قَوْمِهٖ
غَضْبَانَ
اَسِفًا ۙ
قَالَ
بِئْسَمَا
خَلَفْتُمُوْنِیْ
مِنْ
بَعْدِیْ ۚ
اَعَجِلْتُمْ
اَمْرَ
رَبِّكُمْ ۚ
وَاَلْقَی
الْاَلْوَاحَ
وَاَخَذَ
بِرَاْسِ
اَخِیْهِ
یَجُرُّهٗۤ
اِلَیْهِ ؕ
قَالَ
ابْنَ
اُمَّ
اِنَّ
الْقَوْمَ
اسْتَضْعَفُوْنِیْ
وَكَادُوْا
یَقْتُلُوْنَنِیْ ۖؗ
فَلَا
تُشْمِتْ
بِیَ
الْاَعْدَآءَ
وَلَا
تَجْعَلْنِیْ
مَعَ
الْقَوْمِ
الظّٰلِمِیْنَ
۟
اور جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیا اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کرلی، اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں1 اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ ہارون (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے ماں جائے!2 ان لوگوں نے مجھ کو بےحقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں3 تو تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ4 اور مجھ کو ان ﻇالموں کے ذیل میں مت شمار کرو۔5
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہو چکا تھا، اس لیے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا، میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا۔ غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دی
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہو چکا تھا، اس لیے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور