الأعراف 7:168 وقطعناهم في الارض امما منهم الصالحون ومنهم دون ذالك وبلوناهم بالحسنات والسييات لعلهم يرجعون ١٦٨
وَقَطَّعْنٰهُمْ
فِی
الْاَرْضِ
اُمَمًا ۚ
مِنْهُمُ
الصّٰلِحُوْنَ
وَمِنْهُمْ
دُوْنَ
ذٰلِكَ ؗ
وَبَلَوْنٰهُمْ
بِالْحَسَنٰتِ
وَالسَّیِّاٰتِ
لَعَلَّهُمْ
یَرْجِعُوْنَ
۟
اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کر دیں۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بدحالیوں سے آزماتے رہے کہ شاید باز آجائیں۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭…
بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زمین میں رہو سہو۔ جب آخرت کا وعدہ آئے گا، ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے۔ ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے، کچھ بد تھے۔ “ [17-الإسراء:104]
جنات میں بھی یہی ح
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭…
بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زم