الأعراف 7:176 ولو شينا لرفعناه بها ولاكنه اخلد الى الارض واتبع هواه فمثله كمثل الكلب ان تحمل عليه يلهث او تتركه يلهث ذالك مثل القوم الذين كذبوا باياتنا فاقصص القصص لعلهم يتفكرون ١٧٦
وَلَوْ
شِئْنَا
لَرَفَعْنٰهُ
بِهَا
وَلٰكِنَّهٗۤ
اَخْلَدَ
اِلَی
الْاَرْضِ
وَاتَّبَعَ
هَوٰىهُ ۚ
فَمَثَلُهٗ
كَمَثَلِ
الْكَلْبِ ۚ
اِنْ
تَحْمِلْ
عَلَیْهِ
یَلْهَثْ
اَوْ
تَتْرُكْهُ
یَلْهَثْ ؕ
ذٰلِكَ
مَثَلُ
الْقَوْمِ
الَّذِیْنَ
كَذَّبُوْا
بِاٰیٰتِنَا ۚ
فَاقْصُصِ
الْقَصَصَ
لَعَلَّهُمْ
یَتَفَكَّرُوْنَ
۟
اگر ہم چاہتے اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑارہا، لہٰذا اس کی حالت کتّے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔1 یہی مثال ہے اُن لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایات اِن کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غوروفکرکریں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بلعم بن باعورا ٭٭…
مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخ
بلعم بن باعورا ٭٭…
مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ ت