الأعراف 7:179 ولقد ذرانا لجهنم كثيرا من الجن والانس لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم اعين لا يبصرون بها ولهم اذان لا يسمعون بها اولايك كالانعام بل هم اضل اولايك هم الغافلون ١٧٩
وَلَقَدْ
ذَرَاْنَا
لِجَهَنَّمَ
كَثِیْرًا
مِّنَ
الْجِنِّ
وَالْاِنْسِ ۖؗ
لَهُمْ
قُلُوْبٌ
لَّا
یَفْقَهُوْنَ
بِهَا ؗ
وَلَهُمْ
اَعْیُنٌ
لَّا
یُبْصِرُوْنَ
بِهَا ؗ
وَلَهُمْ
اٰذَانٌ
لَّا
یَسْمَعُوْنَ
بِهَا ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
كَالْاَنْعَامِ
بَلْ
هُمْ
اَضَلُّ ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
هُمُ
الْغٰفِلُوْنَ
۟
اور ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں بہت سے جن اور انسان ان کے دل تو ہیں لیکن ان سے غور نہیں کرتے ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں یہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے ٭٭…
بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا؟ یہ علام الغیوب کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے، پس اپنے علم کے مطابق اپنی کتاب میں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے ہی لکھ لیا۔ جبکہ اس ک
اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے ٭٭…
بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا؟ یہ علام ا