الأعراف 7:25 قال فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون ٢٥
قَالَ
فِیْهَا
تَحْیَوْنَ
وَفِیْهَا
تَمُوْتُوْنَ
وَمِنْهَا
تُخْرَجُوْنَ
۟۠
(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭…
بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم علیہ السلام ہیں اور شیطان ملعون۔ جیسے سورۃ طہٰ میں ہے آیت «اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعاً» [20-طه:123] حواء آدم علیہ السلام کے تابع تھیں اور سانپ کا
سفر ارضی کے بارے میں یہودی روایات ٭٭…
بعض کہتے ہیں یہ خطاب آدم، حواء، شیطان ملعون اور سانپ کو ہے -بعض سانپ کا ذکر نہیں کرتے -یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد آدم