الأعراف 7:32 قل من حرم زينة الله التي اخرج لعباده والطيبات من الرزق قل هي للذين امنوا في الحياة الدنيا خالصة يوم القيامة كذالك نفصل الايات لقوم يعلمون ٣٢
قُلْ
مَنْ
حَرَّمَ
زِیْنَةَ
اللّٰهِ
الَّتِیْۤ
اَخْرَجَ
لِعِبَادِهٖ
وَالطَّیِّبٰتِ
مِنَ
الرِّزْقِ ؕ
قُلْ
هِیَ
لِلَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا
فِی
الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا
خَالِصَةً
یَّوْمَ
الْقِیٰمَةِ ؕ
كَذٰلِكَ
نُفَصِّلُ
الْاٰیٰتِ
لِقَوْمٍ
یَّعْلَمُوْنَ
۟
اے محمد ؐ ، اِن سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟1 کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتًہ انہی کے لیے ہوں گی۔2 اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آخر کار مومن ہی اللہ کی رحمت کا سزا وار ٹھہرا ٭٭…
کھانے، پینے، پہننے، اوڑھنے کی ان بعض چیزوں کو بغیر اللہ کے فرمائے، حرام کر لینے والوں کی تردید ہو رہی ہے اور انہیں ان کے فعل سے روکا جا رہا ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ پر ایمان رکھنے والوں اور اس کی عبادت کرنے والوں کے لیے ہی تیار ہوئی ہیں۔ گو دنیا میں ان کے
آخر کار مومن ہی اللہ کی رحمت کا سزا وار ٹھہرا ٭٭…
کھانے، پینے، پہننے، اوڑھنے کی ان بعض چیزوں کو بغیر اللہ کے فرمائے، حرام کر لینے والوں کی تردید ہو رہی