الأعراف 7:43 ونزعنا ما في صدورهم من غل تجري من تحتهم الانهار وقالوا الحمد لله الذي هدانا لهاذا وما كنا لنهتدي لولا ان هدانا الله لقد جاءت رسل ربنا بالحق ونودوا ان تلكم الجنة اورثتموها بما كنتم تعملون ٤٣
وَنَزَعْنَا
مَا
فِیْ
صُدُوْرِهِمْ
مِّنْ
غِلٍّ
تَجْرِیْ
مِنْ
تَحْتِهِمُ
الْاَنْهٰرُ ۚ
وَقَالُوا
الْحَمْدُ
لِلّٰهِ
الَّذِیْ
هَدٰىنَا
لِهٰذَا ۫
وَمَا
كُنَّا
لِنَهْتَدِیَ
لَوْلَاۤ
اَنْ
هَدٰىنَا
اللّٰهُ ۚ
لَقَدْ
جَآءَتْ
رُسُلُ
رَبِّنَا
بِالْحَقِّ ؕ
وَنُوْدُوْۤا
اَنْ
تِلْكُمُ
الْجَنَّةُ
اُوْرِثْتُمُوْهَا
بِمَا
كُنْتُمْ
تَعْمَلُوْنَ
۟
ان کے دلوں میں ایک دُوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہو گی اسے ہم نکال دیں گے۔1 اُن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہ کہیں گے کہ”تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پاسکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا ، ہمارے ربّ کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے“۔ اُس وقت نِدا آئے گی کہ”یہ جنّت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن کے اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے“۔2
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! ٭٭…
اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا۔ یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔
پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں ا
اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! ٭٭…
اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا۔ یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپ