الأعراف 7:44 ونادى اصحاب الجنة اصحاب النار ان قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا فهل وجدتم ما وعد ربكم حقا قالوا نعم فاذن موذن بينهم ان لعنة الله على الظالمين ٤٤
وَنَادٰۤی
اَصْحٰبُ
الْجَنَّةِ
اَصْحٰبَ
النَّارِ
اَنْ
قَدْ
وَجَدْنَا
مَا
وَعَدَنَا
رَبُّنَا
حَقًّا
فَهَلْ
وَجَدْتُّمْ
مَّا
وَعَدَ
رَبُّكُمْ
حَقًّا ؕ
قَالُوْا
نَعَمْ ۚ
فَاَذَّنَ
مُؤَذِّنٌ
بَیْنَهُمْ
اَنْ
لَّعْنَةُ
اللّٰهِ
عَلَی
الظّٰلِمِیْنَ
۟ۙ
اور پکاریں گے جنت والے دوزخ والوں کو کہ ہم نے پایا جو ہم سے وعدہ کیا تھا ہمارے رب نے سچا سو تم نے بھی پایا اپنے رب کے وعدہ کو سچا وہ کہیں گے کہ ہاں پھر پکارے گا ایک پکارنے والا انکے بیچ میں کہ لعنت ہے اللہ کی ان ظالموں پر
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭…
جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے، صحیح پایا۔ تم اپنی کہو!
«ان» یہاں پر مفسرہ ہے قول محذوف کا اور «قد» تحقیق کے لئے ہے۔
اس کے جواب میں م
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭…
جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپ