الأعراف 7:53 هل ينظرون الا تاويله يوم ياتي تاويله يقول الذين نسوه من قبل قد جاءت رسل ربنا بالحق فهل لنا من شفعاء فيشفعوا لنا او نرد فنعمل غير الذي كنا نعمل قد خسروا انفسهم وضل عنهم ما كانوا يفترون ٥٣
هَلْ
یَنْظُرُوْنَ
اِلَّا
تَاْوِیْلَهٗ ؕ
یَوْمَ
یَاْتِیْ
تَاْوِیْلُهٗ
یَقُوْلُ
الَّذِیْنَ
نَسُوْهُ
مِنْ
قَبْلُ
قَدْ
جَآءَتْ
رُسُلُ
رَبِّنَا
بِالْحَقِّ ۚ
فَهَلْ
لَّنَا
مِنْ
شُفَعَآءَ
فَیَشْفَعُوْا
لَنَاۤ
اَوْ
نُرَدُّ
فَنَعْمَلَ
غَیْرَ
الَّذِیْ
كُنَّا
نَعْمَلُ ؕ
قَدْ
خَسِرُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
وَضَلَّ
عَنْهُمْ
مَّا
كَانُوْا
یَفْتَرُوْنَ
۟۠
اب کیا یہ لوگ اِس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آجائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے؟1 جس روز وہ انجام سامنے آگیا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کر دیا تھا کہیں گے ”واقعی ہمارے ربّ کے رسول حق لے کر آئے تھے، پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کر کے دکھائیں2“۔۔۔۔۔انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج ان سے گم ہوگئے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ ٭٭…
اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کر دیئے تھے۔ اپنے رسولوں کی معرفت، اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔
جیسے فرمان ہے «الرٰ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» [11-هود:1] ” اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں
آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ ٭٭…
اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کر دیئے تھے۔ اپنے رسولوں کی معرفت، اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔
جیسے