الأعراف 7:57 وهو الذي يرسل الرياح بشرا بين يدي رحمته حتى اذا اقلت سحابا ثقالا سقناه لبلد ميت فانزلنا به الماء فاخرجنا به من كل الثمرات كذالك نخرج الموتى لعلكم تذكرون ٥٧
وَهُوَ
الَّذِیْ
یُرْسِلُ
الرِّیٰحَ
بُشْرًاۢ
بَیْنَ
یَدَیْ
رَحْمَتِهٖ ؕ
حَتّٰۤی
اِذَاۤ
اَقَلَّتْ
سَحَابًا
ثِقَالًا
سُقْنٰهُ
لِبَلَدٍ
مَّیِّتٍ
فَاَنْزَلْنَا
بِهِ
الْمَآءَ
فَاَخْرَجْنَا
بِهٖ
مِنْ
كُلِّ
الثَّمَرٰتِ ؕ
كَذٰلِكَ
نُخْرِجُ
الْمَوْتٰی
لَعَلَّكُمْ
تَذَكَّرُوْنَ
۟
اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں تو انہیں کسی مردہ سر زمین کی طرف حرکت دیتا ہے، اور وہاں مینہ برسا کر (اُسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالت موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں ٭٭…
اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو
تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں ٭٭…
اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبرد