الأعراف 7:70 قالوا اجيتنا لنعبد الله وحده ونذر ما كان يعبد اباونا فاتنا بما تعدنا ان كنت من الصادقين ٧٠
قَالُوْۤا
اَجِئْتَنَا
لِنَعْبُدَ
اللّٰهَ
وَحْدَهٗ
وَنَذَرَ
مَا
كَانَ
یَعْبُدُ
اٰبَآؤُنَا ۚ
فَاْتِنَا
بِمَا
تَعِدُنَاۤ
اِنْ
كُنْتَ
مِنَ
الصّٰدِقِیْنَ
۟
انہوں نے کہا (اے ہود (ؑ) کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم صرف اللہ کی بندگی کریں جو اکیلا ہے اور ہم چھوڑ بیٹھیں ان کو جن کو پوجتے تھے ہمارے آباء و اَجداد ! تو ہم پر لے آؤ (وہ عذاب) جس کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو اگر تم سچے ہو
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قوم عاد کا باغیانہ رویہ ٭٭…
قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کر لیں؟ سنو! اگر یہی مقصود ہے تو اس کا پورا ہونا محال ہے۔
ہم تیار ہ
قوم عاد کا باغیانہ رویہ ٭٭…
قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی