الأعراف 7:75 قال الملا الذين استكبروا من قومه للذين استضعفوا لمن امن منهم اتعلمون ان صالحا مرسل من ربه قالوا انا بما ارسل به مومنون ٧٥
قَالَ
الْمَلَاُ
الَّذِیْنَ
اسْتَكْبَرُوْا
مِنْ
قَوْمِهٖ
لِلَّذِیْنَ
اسْتُضْعِفُوْا
لِمَنْ
اٰمَنَ
مِنْهُمْ
اَتَعْلَمُوْنَ
اَنَّ
صٰلِحًا
مُّرْسَلٌ
مِّنْ
رَّبِّهٖ ؕ
قَالُوْۤا
اِنَّا
بِمَاۤ
اُرْسِلَ
بِهٖ
مُؤْمِنُوْنَ
۟
آپ ؑ کی قوم کے متکبر سرداروں نے ان لوگوں سے کہا جو دبا لیے گئے تھے (اور) جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہ (واقعی) کیا تم لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ (ہاں) ہم تو جو کچھ ان کو دے کر بھیجا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭…
علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہ
ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭…
علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طس