البقرة 2:108 ام تريدون ان تسالوا رسولكم كما سيل موسى من قبل ومن يتبدل الكفر بالايمان فقد ضل سواء السبيل ١٠٨
اَمْ
تُرِیْدُوْنَ
اَنْ
تَسْـَٔلُوْا
رَسُوْلَكُمْ
كَمَا
سُىِٕلَ
مُوْسٰی
مِنْ
قَبْلُ ؕ
وَمَنْ
یَّتَبَدَّلِ
الْكُفْرَ
بِالْاِیْمَانِ
فَقَدْ
ضَلَّ
سَوَآءَ
السَّبِیْلِ
۟
پھر کیا تم اپنے رسو ل سے اس قسم کے سوالات اور مطالبے کرنا چاہتے ہو، جیسے اس سے پہلے موسیٰ ؑ سے کیے جا چکے ہیں؟1 حالانکہ جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا ، وہ راہ راست سے بھٹک گیا
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کثرت سوال حجت بازی کے مترادف ہے! ٭٭…
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو روکتے ہوئے فرماتا ہے کہ کسی واقعہ کے ہونے سے پہلے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فضول سوال نہ کیا کو۔ یہ کثرت سوال کی عادت بہت بری ہے جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــــَٔـلُوْا عَنْ
کثرت سوال حجت بازی کے مترادف ہے! ٭٭…
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو روکتے ہوئے فرماتا ہے کہ کسی واقعہ کے ہونے سے پہلے میرے نبی صلی اللہ عل