البقرة 2:109 ود كثير من اهل الكتاب لو يردونكم من بعد ايمانكم كفارا حسدا من عند انفسهم من بعد ما تبين لهم الحق فاعفوا واصفحوا حتى ياتي الله بامره ان الله على كل شيء قدير ١٠٩
وَدَّ
كَثِیْرٌ
مِّنْ
اَهْلِ
الْكِتٰبِ
لَوْ
یَرُدُّوْنَكُمْ
مِّنْ
بَعْدِ
اِیْمَانِكُمْ
كُفَّارًا ۖۚ
حَسَدًا
مِّنْ
عِنْدِ
اَنْفُسِهِمْ
مِّنْ
بَعْدِ
مَا
تَبَیَّنَ
لَهُمُ
الْحَقُّ ۚ
فَاعْفُوْا
وَاصْفَحُوْا
حَتّٰی
یَاْتِیَ
اللّٰهُ
بِاَمْرِهٖ ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟
ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہوجانے کے محض حسد وبغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰاپنا حکم ﻻئے۔ یقیناً اللہ تعالے ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابویاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے اور عربوں سے جلتے تھے ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کعب بن اشرف کا بھی یہی شغل تھا زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں اس کے بارے میں
قومی عصبیت باعث شقاوت ہے ٭٭…
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حی بن اخطب اور ابویاسر بن اخطب یہ دونوں یہودی سب سے زیادہ مسلمانوں کے حاسد تھے لو