البقرة 2:11 واذا قيل لهم لا تفسدوا في الارض قالوا انما نحن مصلحون ١١
وَاِذَا
قِیْلَ
لَهُمْ
لَا
تُفْسِدُوْا
فِی
الْاَرْضِ ۙ
قَالُوْۤا
اِنَّمَا
نَحْنُ
مُصْلِحُوْنَ
۟
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ مت فساد کرو زمین میں وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سینہ زور چور ٭٭…
سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ یہ بیان بھی منافقوں سے ہی متعلق ہے ان کا فساد، کفر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تھی [تفسیر ابن جریر الطبری:288/1] مطلب یہ ہے کہ زمین میں اللہ کی نافرمانی کرن
سینہ زور چور ٭٭…
سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ یہ بیان بھ