البقرة 2:118 وقال الذين لا يعلمون لولا يكلمنا الله او تاتينا اية كذالك قال الذين من قبلهم مثل قولهم تشابهت قلوبهم قد بينا الايات لقوم يوقنون ١١٨
وَقَالَ
الَّذِیْنَ
لَا
یَعْلَمُوْنَ
لَوْلَا
یُكَلِّمُنَا
اللّٰهُ
اَوْ
تَاْتِیْنَاۤ
اٰیَةٌ ؕ
كَذٰلِكَ
قَالَ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ
مِّثْلَ
قَوْلِهِمْ ؕ
تَشَابَهَتْ
قُلُوْبُهُمْ ؕ
قَدْ
بَیَّنَّا
الْاٰیٰتِ
لِقَوْمٍ
یُّوْقِنُوْنَ
۟
نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پس کیوں نہیں آتی ۔ ایسی ہی باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے ۔ ان سب کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں ۔ یقین دلانے والوں کے لئے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کرچکے ہیں۔ “
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
طلب نظارہ ، ایک حماقت ٭٭…
رافع بن حریملہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہم سے کیوں نہیں کہتا؟ ہم بھی تو خود اس سے اس کا کلام سنیں، اس پر یہ آیت اتری [تفسیر ابن ابی حاتم:352/1:] مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ بات نصرانیوں نے کہی تھی، ابن جریر رحمہ اللہ
طلب نظارہ ، ایک حماقت ٭٭…
رافع بن حریملہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود ہم سے کیوں نہیں کہتا؟ ہم بھی ت